گوگل اس بچے تانمے بخشی کو 1.2 ملین کیوں دیتا ہے؟

گوگل اس بچے تانمے بخشی کو 1.2 ملین کیوں دیتا ہے؟کمپیوٹر سافٹ وئیرز کے ذریعے انسانی بیماریوں کو پیدا ہونے سے پہلے ہی ان کا پتہ لگا لینا آرٹیفئشل انٹیلی جنس یا مصنوعی زہانت کے ذریعے روبوٹس کو انسانوں جیسا ذہین بنا دینا یہ ہے اس چودہ سالہ بچی کی کچھ معصوم سی خواہشیں ہیں۔
تانمے بخشی ایک چودہ سالہ لڑکا ہےجسے
جاب پر رکھنے کے لیے آئی بی ایم اور گوگل جیسی بڑی کمپنیز کو باقاعدہ ریکویسٹ کرنا
پڑی اور جسے سٹنفرڈ،ہاورڈ،اور ایم ائ ٹی جیسے ورلڈکلاس کالجز مفت میں بھی ایڈمیشن دینے
کو تیار ہے۔یہ سب حقیقت پر مشتمل ہے
اور اگر آپ چاہیں تو اسے گوگل بھی کر
سکتے ہیں۔

چھوٹی سی عمر میں بڑے بڑے کام کرنے والا تانمنے بخشی سوپر بوائے کے نام سے مشہور
ہے یہ اس وقت گوگل کا ایک خاص ملازم ہے جسےگوگل سالانا 1.2 ملین ڈالرز یعنی
ساڑھے سترہ کروڑ روپے سیلری کی مد میں
دیتا ہے انفیکٹ تانمے بخشی سے ایپل، والمارٹ اور گوگل جیسی بڑی کمپنیز اپنے ایمپلائز کو لیکچر دلواتی ہیں۔

لیکن ایک چودہ سالہ بچے میں ایسی کیا خاص بات ہے جو اسے دوسروں سے مختلف بناتی
ہے اس کا جواب ہے تجسس اور دوسرے انسان سے ہٹ کر سوچنا تاننے کو بچپن میں ہمیشہ ایک سوال تنگ کرتا تھا کہ ایک کمپیوٹر
جسے انسان نے بنایا حقیقت میں کیسے انسان
کے پیچیدہ مسائل حل کر دیتا ہے۔

اسی سوال نے تانمے میں کمپیوٹر سے چھیڑ چھاڑ کرنے کا شوق پیدا کر دیاپانچ سال کی
عمر میں بچے عموما سہی سے بھول بھی نہیں پاتے مگر تانمے بخشی اس عمر میں کمپیوٹر کے سوفٹ وئیر بنانے کی زبان یعنی کوڈنگ سیکھ
کر دنیا کا سب سے کم عمر سوفٹ ویئر
ڈیولفر بن چکا تھا اور سات برس کی عمر میں یہ چھوٹو اپنےیوٹیوب چینل کے ذریعے کسی
ماہر استاد کی طرح اپنے سے بڑی عمر کے
لوگوں کو سوفٹ وئیر بنانا سکھا رہا تھا نو
برس کی عمر تک یہ ایک ٹی ٹیبل نامی موبائل فون ایپ تک بنا چکا تھا۔

اس کے والد دراصل خود بھی ایک کمپیوٹر سافٹ ویئر پروگرامرتھے لہذا اس نے اپنے
والد سے ہی کمپیوٹر کے سافٹ وئیر بنانے کا
علم یعنی کوڈنگ کرنا سیکھ لیا تھا تانمے بکشی کو کمپیوٹرز کا اتنا دیوانہ پن تھا کہ ایک بار سکول میں اسے جب پتہ چلا کہ اس کے
سکول کا واحد کمپیوٹر بھی خراب ہوچکا ہے
تو یہ چپ چاپ کمپیوٹر روم میں چلا گیا اور اس کمپیوٹر سے چھیڑ چھاڑ کرنے لگا اس کی ٹیچرز جب وہاں آئے تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ جو کمپیوٹر ان سے بھی صحیح
نہیں ہو رہا تھا وہ تانمے نے کچھ ہی دیر
میں صحیح کرلیا تھا۔

یہ اتنا جینئس لڑکا تھا کہ سکول میں اسے کلاس فیلو اس کی ذہانت کی وجہ سے اس
کے سامنے اَن کمفرٹیبل فیل کرتے تھے تانمے بکشی کے سیکھنے کے شوق کا اندازہ آپ اس بات سے لگاسکتے ہیں کہ بنا کمپیوٹر کی
کوئی مستقل تعلیم حاصل کیے یہ بارہ برس
کی عمر تک کئی سافٹ ویئر بنا چکا تھا ایک یوٹیوب چینل پر دو لاکھ سے زیادہ لوگوں کو تعلیم دیتا تھا اور آئی بی ایم جیسی بڑی
کمپنی میں جاب کرکے سالانہ 73 ہزار ڈالرز یا لگ بھگ ایک کروڑ سے زیادہ کا سیلری پیکج
لیتا تھا۔

ایک بار اس نے بیٹھے بٹھائے اپنے موبائل
فون پر ہی آئی بی ایم کمپنی کے ایک پروگرام میں موجود ایک خرابی کو ڈھونڈ لیا جب IBM کو اسکی ذہانت کا پتہ چلا تو انہوں نے اسے
نہ صرف اپنے ہیڈکوارٹرز میں بلایا بلکہ 12
سالہ تانمے کو ایک بہترین جاب بھی آفر کر
دی لیکن یہ سب سے بڑی کمپنیز تانمے سے
اتنی متاثر کیوں تھی تانمے دراصل ایک سافٹ ویئر بنانے کی خاص فیلڈ ہے جسے آرٹیفیشل انٹیلیجنٹس کہتے ہیں کا ماہر بن چکا تھا۔

آرٹیفیشل انٹیلیجنس ایک ایسا خاص علم ہے جس کا استعمال آپ کے موبائل فون خود بہ خود چلنے والی گاڑیوں اور بیماریوں کی
تشخیص میں ہوتا ہے تانمےایسے سوفٹر بنانے
پر بھی کام کر رہا ہے جو انسان میں پیدا
ہونے والی کسی بھی بیماری کا پہلے سے پتہ
لگا سکیں گے 14 سالا تانمے کی انہیی صلاحیتوں نے گوگل اور آئی بی ایم جیسی کمپنیز کو مجبور کیا کہ وہ اسے اپنے پاس جاب پر رکھے اور اب سٹینفرڈ ہاوڈز اور ایم آئی ٹی جیسے بڑے کالجز اپنے پاس ایڈمیشن دینے
کے لئے بیقرار ہے مگر تانمے بخشی کے فیوچر فلینز اس سے بھی آگے ہیں وہ ایپل اور گوگل جیسے اپنی ایک سوفٹ ویئر کمپنی بنانا
چاہتا ہے جس کے لیے اس نے تانمے بخشی سوفٹ ویئر سلوشن نامی ایک کمپنی بھی
کھولی ہے۔

بارہ برس کی عمر میں جب ہم سب
شاید سکول اور کھیل کود میں مصروف ہوتے تھے تانمے تب تک ایک کامیاب سوفٹ وئیر پروگرامر اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس ڈویلپمنٹ
ایک کتاب کا مصنف اور ایک موٹیویشنل اسپیکر بن چکا تھا اس نےاپنے خوابوں کو پورا کرنے
کے لئے بڑا ہونے اور تعلیم مکمل ہونے کا بھی انتظار نہیں کیا اور یہی اس کی کامیابی کا
راز تھا۔

Spread the love

اپنا تبصرہ بھیجیں