ڈرامہ ارتغل مسلمانوں کی تقدیر بدل سکتا ہے؟؟

ڈرامہ ارتغل نے امریکہ کی ہالی ووڈ اور بالی ووڈ کی 70 سالہ فلمی industry کو نے دفن کر دیا گزشتہ 70 سالوں سے دنیا کو فلمے اور جھوٹے ڈرامے مصنوعی پھولوں پر سجا کر انڈیا یہ ترکی کے ڈرامہ ارتغل پر کل کر سامنے آ گیا اور اس کا واظح ثبوت ہے کے انڈیا نے اپنے اداکاروں پر پابندی لگادی کہ ترکش ڈرامے کی تم نے ڈبنگ نہیں کرنی۔

اس وقت پاکستانی اداکاروں نے 1 season
کی ڈبنگ شروع کی بھارت کو ڈبنگ پر پابندی لگانے کا ایک وجہ یہ ہے کہ ترکش ڈرامہ
سیریز کشمیر میں بہت مشہور ہو جائے گا اب بھارت کو خدشہ ہے کہ کشمیر کی آزادی کو مزید ہوا ملے گی چونکہ وادی کو لاک ڈاؤن
کر دیا گیا اور مقامی کیمرا مین کو پاکستان، ترکی اور ایران سے نشریات نشر کرنے کی ممانعت ہے۔

کشمیریوں نے اس ڈرامہ کو ڈاؤنلوڈ کر کر کے USB اور دسرے مواد میں شئیر کر نا شروع
کر دیا اب اس ڈرامے سے کشمیریوں کو
حوصلہ ملتا ہے کہ دو ہزار افراد پر مشتمل چھوٹا سا قبیلہ ایمان کی طاقت سے پورے
یورپ میں
چھ سو سال حکومت کرتا رہا اور یہ متاثر
کن بات ہے اور یہ سچھی بات بھی ہے اس
میں کوئی اسٹوری ٹیلنٹ نہیں ہے کہ اگر اپ
کو کوئی چیز حاصل کرنے کا مقصد ہے تو
آپ کے راستے میں کوئی چیز نہیں آ سکتی کیوں کہ اس ڈرامے میں واقعتاً شکست پاس ہوئی اور انہوں نی ایسی سلطنت کی بنیاد
ڈالی جو مسلمانوں کی شان و شوکت کی
ایک عظیم
مثال ہے کیونکہ اس ڈرامے میں انہوں نےواظح پیغام دیا ہے جو بھارت سے ہظم نہیں ہو رہا۔

کشمیری اس سیریز کو تفریح کے طور پر
دیکھتے ہیں لیکن یہ ایک ایسا ڈرامہ ہے اثر
اور ایمان کی طاقت کا پیغام دیکھنے والوں
کے اوپر ضرور چھوڑتا ہے ارطغل کا ایک یقینی طور پر ایک سیاسی ایجنڈا ہے یہ کوئی دیو مالائی کہانی نہیں ہےحقیقی کردار حقیقی
واقعات اس پہ ایک سیریز ہے خصوصاً مسلمان نوجوان اور کشمیریوں کے لیے یہ ڈرامہ بہت انسپایرنگ ہے کشمیریوں
کا یہ بھی کہنا ہے کہ سیریز کے بارے میں
سب سے اچھی بات یہ ہے کہ حق اور انصاف کے مقصد کے لیے لڑنے والے کبھی بھی مایوس نہیں ہوتے اور ان کا مقصد صرف اور صرف
حق کے راستے پر چلنا ہوتا ہے ہتھیار ڈالنا
کبھی اپشن نہیں ہوتا ہتھیار ڈالنے والوں کو تاریخ معاف
نہیں کرتی ارتغل کے ایک چھوٹے قبیلے کے
داخلی و بیرونی دشمنوں کے خلاف جدوجہد
کی داستان ہے۔

اس نے کافی سطح پر کشمیریوں کو اپیل
کی ہے کیونکہ ان اداکاروں کے رواج اور انداز کشمیریوں سے ملتے جلتے ہیں ایک کشمیری نوجوان وسیم کا یہ کہنا ہے کہ میں اور
میرے والد ہمیں اسے روزانہ صبح سے دوپہر دو بجے تک دیکھتے تھے اور سیریز کے بارے میں چلنے والے موضوعات جدوجہد ظلم تکلیف
شناخت اور انصاف یہ ہماری کہانی ہے۔

اب کشمیر کی روزانہ کی زندگی میں ارتغال
کا اثر رسوخ ظاہر ہونا شروع ہوگیا کشمیری دوست ایک دوسرے پر کرداروں کے ذریعے استعمال ہونے والے ناموں سے اب سلام پیش
کر رہے ہیں لوگ اسکےٹائٹل میوزک پلیئر اور رنگٹونز کے طور پر استعمال کرنا شروع کردیئے ہیں
اور اس ڈرامے نے کشمیریوں کو اک نئی راہ اور راستے سے روشناس کروایا اور ترک نے یہ ڈرامہ بنا کر مسلمانوں کا نہ صرف اپنی طرف متوجہ کیا بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں کو یکجا کر دیا۔

اس وقت غازی ارتغل اورغازی عثمان ڈرامہ
ڈیڑھ سو سے زیادہ ممالک کا ترجمہ کے
ساتھ نشر ہو رہا ہے جو کہ دنیا میں سب
سے زیادہ دیکھے جانے والا ڈرامہ ہے اب یہ ترکش ڈرامہ ارتغل اس میں جوانوں کا کویا
ہوا مقام اور خلافت عثمانیہ حاصل کرنے کے
لیے پرجوش کردیا امریکی اخبار نیویارک ٹائمز
اف واشنگٹن پوسٹ نے اس ڈرامے کو ایک سائلنٹ پیغام کہا ہے۔

ڈرامہ ارتغل دنیا میں مقبول ہوا تو اس پر پابندیاں لگ گئی سعودی عرب اور دبئی میں موجود مڈل ایسٹ براڈ کاسٹنگ سینٹر نیو
ڈرامے کو اپنے ٹی وی نیٹ ورک پر ممنوع
قرار دے دیا نتیجہ یہ نکلا کہ عرب میں اس ڈرامے کی مقبولیت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے عربوں نے اسے انٹرنیٹ پر دیکھنا شروع
کر دیا اور کہا جا رہا ہے کے عرب دنیا میں
اس ڈرامے کو دیکھنے والوں کی تعداد اب کروڑوں میں ہے عرب امارات اور مصر میں
اسکے خلاف ایک مہم چلائی گئی عرب امارات
کا کاٹ کرنے کی
کوشش کی گئی لیکن کوئی کوشش کامیاب نہ
ہو سکی عرب میں ارتغل کا جادو سرچڑھ کر بول رہا ہے اور پھر بات فتوہ تک پہنچ گئی
اور
مصر کے فتویٰ دینے کے سب سے بڑے درالفتح
نے ارتغل کے خلاف فتویٰ دے دیا کہ اس
ڈرامے کو کسی صورت میں نہ دیکھا جائے۔

اب اس سارے ڈرامے میں ڈرامہ اہم نہیں
طریقہ واردات اہم ہیں قوم پرستی کی لڑائی
ہے لیکن مذہب کے فتوے کی مدد سے لڑی
جارہی ہےاس کو سمجھنے کی ضرورت ہے مسلمانوں کے ساتھ یہی ہوتا آیا ہےجہاں جب
اور جس کام میں ضرورت پڑی مذہب کو استعمال کیا گیا
ضرورت کا تقاضہ ہو تو عورت کی ڈرائیونگ
بھی غیر اسلامی قرار دی گئی اور ضروریات بدلے تو ویلنٹائن ڈے جائز ہوجاتا ہے ضرورت
ہو تو فلسطین کو شرعی تقاضہ بنا کے امت کا مسئلہ بنا دو اور پھربھارت کی معیشت نظر
آرہی ہو تو کشمیر صرف پاکستان کا مسلہ قرار پائے اور او ای سی کا اجلاس پر بلانا مشکل
ہو جاتا ہے۔

گزشتہ سال دسمبر 2019 میں یہ خبر سامنے آئی تھی کہ پاکستان ٹیلی ویژن نے وزیراعظم عمران خان کی ہدایات کے بعد مسلمانوں کی فتوحات کی اس ڈرامے کی اردو ڈبنگ کاآغاز
کردیا رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ڈرامہ ارتغل PTV پر کب نشرکرنا شروع کر دیا جائے گا تا ہم اردو ڈبنگ کا کام روک دیا گیا اردو ڈبنگ
کی ٹیم میں شامل مشہور وائس اوور آرٹسٹ رحمان نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو جاری
کرتے ہوئے کہا کہ ڈرامے کی ڈبنگ کا کام
روک دیا گیا معروف آرٹسٹ نے بتایا کہ اس
بات کا علم ہی نہیں کہ ڈرامے کا کام کیوں
اور کیسے روک لی گئیں تاہم ان کا خیال ہے
کہ شاید اب ڈرامے کا ڈبنگ کوئی اور نجی
چینل چالو کریں گے۔پھر اس کے بعد PTV کا بیان آیا کہ ڈبنگ
کا کام روکنے کا کوئی صداقت نہیں اور
انہوں نے کہا کہ ڈرامے کی ڈبنگ کا کام
جاری ہے اور PTV پر بہت جلد نشر کیا
جائے گا۔

ارتغل ڈرامے کو نویں صدی میں اسلامی
فتوحات کے حوالے سے انتہائی اہم اور ڈرامے
کی کہانی تیرہویں صدی میں سلطنت عثمانیہ
کے قیام سے قبل کی کہانی ہے اور اسکی
مرکزی کہانی ارتغل نامی بہادر ایک مسلمان
سپہ سلار کی ہے جو ارتغل غازی بھی کہا
جاتا ہے ڈرامہ ارتغل کو 2014 میں ریلیز کیا
گیا تھا اور اس ڈرامے
میں دکھایا گیا کہ کس طرح تیرہویں صدی
میں ترک سپہ سالار ارتغل صلیبیوں اور ظالموں کا بہادری سے مقابلہ کیا اور کس طرح اپنی فتوحات کا سلسلہ برقرار رکھا۔

اس ڈرامہ میں بشیر بن العربی کے آتے ہی
لوگ مودب ہو جاتے ہیں لیٹے ہوں تو فوراْ
اٹ بیٹھتے ہیں جیسے حقیقت میں استاد
سامنے آ گئے ہوں۔

سوال یہ ہے کہ مختلف گانوں کے پروگرام
ہر چینل پر چل سکتے ہیں تو ایسا کونٹینٹ کیوں نہیں ہم بھی کوئی چیز پروڈیوس کریں
کہسب پاکستانیوں کو جوڑ دے جیسے PTV کے زمانے میں ہوتا تھا تب سبھی زمانے اور سبھی ہمارے کلچر محسوس ہوتے تھے امت کا تصور
ہم تب کے ارتغل کو دیکھ کر اس کے لیے دعا گو ہو جاتے ہیں کہ وہ اپنے قبیلے سے پہلے
اپنی مسلمان دوست کو سامنے رکھتے ہیں پہلے بار موقع مل رہا ہے کہ ہم اپنے بچوں کو کہے کہ یہ ہے ہمارا ہیرو ایسا بنو تو ہمیں تم پر فخر ہوگا ۔۔
ارتغل نے ہمیں ایک نئے تجربے سے روشناس
کرایا اور ہم مسلمان امت کے لیے مرنا اسکا نصب العین ہے اور مسلمان اس پر دلی طور
پہ اتنا جڑ گئے ہیں اس کی کامیابی ان کی کامیابی مشکل ان کی مشکل بن گئی ہے یہی ایک امت ہے۔ایک ہے بھائی بھائی ہے یہ سب
اگر اپ خود محسوس کرنا چاہیں تو یہ ڈرامہ خود آپ کو محسوس کراوا دے گا۔

Spread the love

اپنا تبصرہ بھیجیں