کیا غسل کرنے سے وضو ہو جاتی ہے؟

غسل جنابت کا طریقہ:-حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کا ارادہ فرمایا تو سب سے پہلے دونوں ہاتھ دھوئے یہ غسل جنابت یعنی ناپاک جب انسان ہو جائے تو اس کے بعد پاک ہونے کے لئے جو غسل کرنا ہے اس کا طریقہ ہے آپ صلی علیہ وآلہ وسلم نے سب سے پہلے اپنے ہاتھ دھوئے ہاتھ کیوں دھوئے کیوں کہ کام سب ہاتھوں سے ہی کرتا ہے انسان تو اگر صفائی کرنے والے ٹولز صاف نہیں تو صفائی کہاں ہوگی پھر شرمگاہ کو دھویا استنجا کیا پھر بایاں ہاتھ جس سے شرمگاہ کو دھویا تھا انہیں استنجا کیا تھا زمین پر رگڑا پھر اس کو دھویا زمین پر کیوں رگڑا اس لیے کہ اس زمانے میں صابن اس طرح نہیں ہوتا تھا۔

تو مٹی پاک کرنے والی ہوتی ہے مٹی کے اندر
ایسی صلاحیت ہوتی ہیں اگر صابن ہے تو اس
کے لیے ضروری نہیں کہ آپ مٹی پر ہی ہاتھ رکھیں
ابآپ پریشان ہو کہ ہماری واش روم میں ٹائلز زندگی
میں ہیں اور مٹی نہیں ہے تو کیا ہمارا غسل نہیں ہوگا
تو اس کا مخالف ہم استعمال کرسکتے ہیں

پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا پھر چہرہ دھویا پھر کہنیوں تک ہاتھ دھوئے پھر سر پر پانی ڈالا اور بالوں
کی جڑوں تک پانی پہنچایا یعنی صرف پانی ڈالا ہی
نہیں بلکہ مل کے سر کو بالوں کے جھڑ والی یعنی جس جگہ سے بال اگتے ہیں اس سارے حصے کو خوب تر کیا پھر تین بار سر پر پانی ڈالا پھر پورے جسم پر پانی
ڈالا تو جہاں آپ نے غسل کیا تھا اس جگہ سے ہٹ کر پاؤں دھوئے اس کا مطلب ہے کہ باقی وضو آپ نے
شروع میں کرلیا اور پاؤں دھونے کا عمل بالکل آخر
میں کیا حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں
کسی حدیث میں غسل جنابت کا وضو کرتے وقت سر
کے مسہ کرنے کا ذکر نہیں کیوں کہ اس کے ساتھ سر
دھو جو لیا جاتا ہے۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت عبداللہ بن عمر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل جنابت میں وضو کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ نے سر کا مسح نہیں کیا بلکہ اس پر پانی ڈالا۔

امام نسائی نے اس حدیث پر یہ باب باندھا ہے جنابت کے وضو میں سر کے مسح کو ترک کرنا۔

امام ابوداؤد فرماتے ہیں میں نے امام احمد سے سوال کیا کہ جنبی جب غسل سے قبل وضو کرے تو کیا سر کا مسح کرے؟

جنبی یعنی جس کو حالت جنابت لاحق ہوئی ہے ناپاک ہے جو غسل سے قبل وضو کرے تو کیا سر کا بھی مسہ کریں؟

آپ نے فرمایا وہ مسہ کس لئے کریں جب کہ وہ اپنے سر پر پانی ڈالے گا۔

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے کہا میں اور
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک برتن سے نہاتے
اور دونوں اس سے چلّؤ بھر بھر کر لیتے تھے یعنی
آج کے دور میں تو آپ کے پاس مگ ہیں اور بہت سی سہولتیں ہیں اس دور میں چولو سے پانی لے کر اپنے
اوپر ڈال لیتے تھے اس سے کیا پتا چلتا ہے کہ اللہ نے انسان کو عقل دی ہے انسان تدبیر کرے اب آپ کو
مثلاً نہانے کی ضرورت ہے

آپ واش روم میں گئے ہیں کہیں مسافر ہیں وہاں
صرف پانی کی بالٹی تو ہے لیکن پانی نکالنے والی
کوئی چیز نہیں تو آپ باہر آگئے کہ میں تو آج غسل
نہیں کر سکتا کیونکہ مگہ ہی نہیں ہے تو آپ صلی
علیہ وسلم کا طریقہ دیکھیں کہ چلو بھر کے دو
ہاتھوں سے ڈال کے غسل کرلیتے ۔

غسل پردے میں کرنا چاہیے۔

کیا غسل جنابت کا وضو کافی ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنابت کے بعد
وضو نہیں کرتے تھے۔

یعنی غسل جنابت میں جو وضو شروع میں
آپ صلی علیہ وآلہ وسلم کرتے تھے جس کے بالکل
آخر میں پاؤں دھوتے تھے اسی وضو سے نماز ادا کرتے تھے۔

بعض خواتین کا یہ سوال ہوتا ہے کہ اگر سر سے دوپٹہ اتر جائے تو کیا وضو ٹوٹ جاتا ہے؟

تو یہاں پر تو دوپٹہ کیا لباس بھی نہیں ہے یعنی بے لباس وضو کیا گیا ہے۔اور وہی وضو کافی سمجھا گیا۔

غسل جنابت کے بعد ان احوال کا ذکر کیا جاتا ہے جن میں غسل کرنا واجب مسنون یا مستحب ہے۔

جمعہ کے دن غسل

حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے
کوئی شخص نماز جمعہ کے لئے آئے تو اسے غسل کرنا چاہیے۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر مسلمان پر
حق ہے کہ ہفتے میں ایک دن جمعہ کو غسل کریں
اس میں اپنا سر دھوئے اور اپنا بدن دھوئے۔حضرت
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کے دن ہر بالغ مسلمان پر نہانا واجب ہے۔
ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں جمعہ کے دن غسل واجب ہیں کیونکہ اس کی حدیث زیادہ صحیح اور قوی ہیں ابن
حزم اور علامہ شوکانی نے بھی اس مذہب کو
اختیار کیا ہے یعنی اسے لازم قرار دیا ہے لیکن اگر
کوئی شخص کسی وجہ سے نہیں کرسکتا تو گنہگار نہیں ہوگا۔

Spread the love

اپنا تبصرہ بھیجیں