پاکستان قومی شناختی کارڈز CNIC کے بارے میں اہم معلومات

پاکستان قومی شناختی کارڈز نیشنل ڈیٹابیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کارڈز کی طرف سے جاری کئے جانے والے کارڈز پر ہم آپ کو بتائیں گے وہ کونسے کارڈ ہیں۔اور کن کام کے لئے ضروری ہیں۔ پہلے یہ بات ذہن نشیں کر لیں کہ ہر چپ لگا کارڈ سمارٹ کارڈ کہلاتا ہے, ہر پاکستانی شہری کو اس کا علم ہونا ضروری ہے۔

قومی شناختی کارڈ (این آئی سی)
(National Identity Card (NIC

پاکستان قومی شناختی کارڈز (این آئی سی): پاکستان کے ہر شہری (مرد/ عورت) جس
کی عمر ۱۸سال یا اس سے زیادہ ہے، خواہ
وہ پاکستان میں ہو یا پاکستان سے باہر اس
کے لئے پاکستان قومی شناختی کارڈ بنوانا
لازمی ہے۔ قومی شناختی کارڈ کسی بھی
شخص کی شہریت اور شناخت کے لئے
ضروری ہے۔  یہ ہمیں پاکستان میں بہت
سے کام کے لئے بھی ضروری ہے جس
کی تفصیل الگ سے پوسٹ میں بتا دی
جائے گی۔

پاکستان قومی شناختی کارڈز صرف پاکستان
کے لئے کارآمد ہوتا ہے، کارڈ کے پیچھے والا
کچھ حصہ خالی ہے اس پر بھی دوسرے
کارڈ کی ڈیٹیل پر بتائیں گے۔ اس کی فیس
بھی بہت کم ہوتی ہے۔

جوئینائل کارڈ (نوعمر کارڈ) (Juvenile Card (JV
جوئینائل کارڈ (نوعمر کارڈ): یہ کم سن
نوعمر بچوں کا شناختی کارڈ ہے جو ۱۸
سال سے کم عمر بچوں کو جاری کیا
جاتا ہے،  چپ پر مبنی کارڈ چلڈرن
رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (سی آر سی)
سے افضل ہے کیونکہ یہ متعدد سہولیات
والی ‘لیگل  دستاویز’ ہے۔
جوئینائل کارڈ یہ کارڈ بھی صرف
پاکستان کے لئے کارآمد ہے۔

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لئے
قومی شناختی کارڈ
(این آئی سی او پی)
National Identity Card for (Overseas Pakistanis (NICOP

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لئے
قومی شناختی کارڈ
(این آئی سی او پی) ایک
رجسٹریشن دستاویز ہے جو پاکستان
کے اہل شہری کو جاری کیا جاتا ہے
جو بیرون ملک مقیم ہے یا رہتا ہے۔

پاکستان کا کوئی بھی شہری پاکستان
قومی شناختی کارڈز (این آئی سی او پی)
کے لئے درخواست دے سکتا ہے اور دوہری شہریت کی صورت میں ویزا کی ضرورت
کے بغیر پاکستان کا سفر کرسکتا ہے۔
براہ کرم نوٹ کریں کہ اگر نئے پیدا
ہونے والے بچوں کے بیرون ملک پیدا
ہوئے ہیں تو ان کی (این آئی سی او پی)
کے لئے درخواست دینے کی صورت میں
پاسپورٹ نمبر لازمی شرط ہے۔

پاکستان کا ہر شہری پاکستان قومی شناختی کارڈز (این آئی سی) کارڈ اور
(این آئی سی او پی) کارڈ دونوں
میں سے ایک وقت میں ایک ہی کارڈ
رکھ سکتا ہے جس پر اس کا ایک کارڈ
نادرا کینسل کرتا ہے۔نائکوپ کا کارڈ ان کی
ضرورت ہے جن پاکستانیوں کے پاس دہری
شہریت ہوتی ہے یہ کارڈ ان کے لئے پاکستانی پاسپورٹ کا کام کرتا ہے، اس کارڈ کی
دوسری طرف دیکھیں پاسپورٹ والے فیچرز
آپ کو نظر آئیں ہے،یہ کارڈ ریڈ ایبل ہے۔اور
پوری دنیا کے ائرپورٹ پر اسے استعمال
کرنے والے کا ڈیٹا چیک ہوتا ہے۔

اس کی فیس این آئی سی کارڈ سے بہت
زیادہ ہوتی ہے۔ پچھلی حکومتوں نے نائکوپ
کارڈ کو گلف میں کام کرنے والوں پر بھی
لازم کیا ہوا تھا، جبکہ یہ کارڈ گلف میں
کارآمدبھی نہیں اور گلف میں سفر کرنے والوں کے پاس گلف ممالک کا ویزہ ہوتا ہے یہ کارڈ فیس کی صورت میں ان کے لئے بہت بھاری
تھا، حالیہ حکومت جو بھی ہے اس نے گلف
میں جانے والے پاکستانیوں کے نائکوپ کارڈ
کی شرط ختم کر دی ہوئی ہے۔

جس پر تمام اخبارات اور ٹیلی ویژن پر بتایا گیا تھا، اب اگر کوئی نئے ویزہ پر روٹیکٹر کروانے جائے تو پروٹیکٹر آفس لگے سائن بورڈ
پر بھی لکھا ہوا ہے اس کی ضرورت نہیں آپ اپنا این آئی سی کارڈ استمعال کر سکتے ہیں۔

اگر گلف میں کسی کا کارڈ ختم ہونے والا
ہو تو وہ رینیو کرواتے وقت این آئی سی کارڈ حاصل کر سکتا ہے، اگر کسی کو اس بات کا یقین نہ آئے تو وہ پاکستانی ایمبیسی سے بھی اس پر معلومات حاصل کر سکتا ہے، اور اگر
پھر بھی اسے ڈر لگے یا شوق ہے تو یہ اس
کی چوئس ہے یہی کارڈ رینیو کروا سکتا ہے۔ 

پاکستان اوریجن کارڈ (پی او سی) (Pakistan Origin Card (POC

پاکستان اوریجن کارڈ (پی او سی): دنیا کے کچھ ممالک ایسے ہیں جو اپنے شہریوں کو دوہڑی شہریت رکھنے کی اجازت نہیں دیتے،
اگر کسی پاکستانی کو اس ملک کی شہریت چاہئے تو انہیں پاکستانی شہریت سارنڈر کرنی پڑے گی تبھی اسے اس ملک کی شہری ملے
گی۔

ماضی میں ایسے پاکستانیوں کو جو جو
شہریت واپس کر چکے تھے انہیں پاکستان آنے کے لئے ویزہ کے حصول کے لئے بہت مشکلات
کا سامنا ہوتا تھا جس کی پیش نظر حکومت پاکستان نے ایسے لوگوں کو قومی دہاڑے میں لانے کے لئے ایک اچھا اقدام کیا جس سے پاکستان اوریجن کارڈ (پی او سی) متعارف کروایا۔

اس کارڈ سے وہ غیر ملکی پاکستانی جو سیٹیزن شپ کینسل کر چکے تھے اس کارڈ
سے بغیر ویزہ کے پاکستان آ اور جا سکتے
ہیں، اس کارڈ کو حاصل کرنے کے مقاصد اور فوائید بھی بہت ہیں، جن کا ذکر کسی اور پوسٹ میں۔ اس کارڈ کی فیس بہت ہی زیادہ ہے اگر کوئی یہ کارڈ حاصل نہیں کرتا تو
اسے ویزہ لے کر پاکستان آنا پڑے گا۔

چائلڈ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (سی آر سی) (Child Registration Certificate (CRC

چائلڈ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (سی آر سی)
ایک رجسٹریشن دستاویز ہے جو 18 سال سے
کم عمر بچوں کو رجسٹر کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ پیدائش کی جگہ سے رجسٹری
سرٹیفکیٹ لینا کسی بچے کا بنیادی حق ہے۔

نادرا خود کار طریقے سے چلانے میں کامیاب
رہا ہے اور اس کے نتیجے میں چلڈرن رجسٹریشن کے سرٹیفکیٹ کے حصول کے عمل کو آسان
بناتا ہے۔ سی آر سی کو  ب فارم کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یونین کونسل سے بچوں
کی پیدائش کا دستاویزی ثبوت فراہم کرکے
سی آر سی لیا جاسکتا ہے۔

پاکستان میں لوگ اپنے 18 سال سے کم عمر
کے بچوں کے لئے ب فارم حاصل کرنا ہی بہتر سمجھتے ہیں، جس کی فیس بہت ہی کم ہے۔ پاکستان میں اگر کوئی 18 سال سے کم عمر بچہ کا کارڈ حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس کے بچے کو جوئینائل کارڈ (نوعمر  کارڈ) Juvenile Card (JV) جاری کیا جاتا ہے۔

دہڑی شہریت والے کو پیدائشی بچہ کا ہی نائکوپ کارڈ ہی حاصل کرنا پڑتا ہے جس سے اسے پاکستان جانے کے لئے یورپئین پاسپورٹ
پر ویزہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔
گلف میں نائکوپ کارڈ کی شرط حکومت نے
بہت عرصہ پہلے ختم کر دی تھی اگر اس کے باوجود بھی کوئی چاہے تو اپنے بچوں کے
نائکوپ کارڈ حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ ان
کئ چوئیس ہے۔

فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (Family Registration Certificate (FRC

فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ آپ کے نادرا
کے ریکارڈ سے شناخت کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔
یہ خاندانی کمپوزیشن فراہم کرتا ہے۔ براہ کرم
نوٹ کریں کہ فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ دنیا کے دوسرے ممالک کے ویزہ کے حصول کے لئے  سفارت خانہ کے زیادہ تر استعمال میں مدد
کرتا ہے لیکن کسی قانونی ضرورت کے لئے استعمال نہیں ہو سکتا۔آپ درج ذیل تین اقسام میں سے ایف آر سی کے لئے دَرخواستیں دے سکتے ہیں۔

پیدائش کے لحاظ سے – تیار کردہ سَرٹیفکیٹس میں آپ کے خاندان کی فہرَستیں ہوگی جس
میں آپ کے والدین اور بِہن  بھائی کی
تفصیلاَت بھی شامل ہیں۔

شادی کے ذریعہ – تیار کردہ سرٹیفکیٹ میں
آپ کے اہل خانہ کی فہرست ہوگی جس میں
آپ کے شریک حیات اور بچوں کی تفصیلات
بھی شامل ہیں۔

گود لینے کے ذریعہ – تیار کردہ سرٹیفکیٹ
آپ کے اہل خانہ کی فہرست درج کرے گا
جس میں آپ کے سرپرست کی تفصیلات
بھی شامل ہیں۔

نوٹ: اس کے علاوہ نادرا اور بھی بہت
سے پروجیکٹ پر کام کر رہا ہے جس پر الگ
سے پھر کبھی پوسٹ لگائی جا سکتی ہے۔
یہ مختصر معلومات ہیں، امید ہے کچھ
ممبران کو یہ معلومات پسند آئے گی۔

Spread the love

اپنا تبصرہ بھیجیں