روزے کی حالت میں بیوی کا بوسہ لینا یا گلے لگانا

روزے کی حالت میں بیوی کا بوسہ لینا یا گلے لگاناحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزہ کھانے پینے سے روکنے کا نام نہیں بلکہ بیہودہ اور فحش کام روکنے کا نام ہے لہذا اگر روزہ دار سے کوئی گالی گلوچ کرے یا جہالت سے پیش آئے تو اسے کہہ دینا چاہیے کہ میں روزے سے ہوں یعنی میں تمہاری باتوں کا جواب نہیں دوں گا اسے ابن خزیمہ نے روایت کیا ہے تو اس حدیث سے یہ پتا چلتا ہے کہ روزہ کھانے پینے سے رکنے کا نام نہیں بلکہ بے ہودہ باتوں سے بھی رکنے کا نام ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کھانے پینے سے رکنا زیادہ اہم ہے اصل بات یہ ہے کہ انسان بے ہودہ اور فحش کاموں سے رک سکے۔

یعنی اگر صرف کھانا پینا چھوڑا ہوا ہے اور باقی سب کچھ کر رہا ہے تو وہ روزہ اس کا روزہ شمار نہیں ہوتا۔

اگلی حدیث میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے رویت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
کہ روزے کی حالت میں کسی کو گالی نہ دو اگر کوئی
دوسرا گالی دے تو اسے کہہ دو کہ میں روزے سے ہوں
اگر کھڑے ہو تو بیٹھ جاؤ اسے ابن خزیمہ نے روایت
کیا ہے یہاں باقی باتیں تو پچھلی احادیث میں
آچکی ہیں لیکن جو نئی بات ہے وہ یہ ہے کہ اگر
کوئی شخص
کھڑا ہو تو بیٹھ جائے یعنی اس سے بھی لڑائی
نہیں ہوگی یا لڑائی آگے نہیں بڑھے گی ہمارے ہاں تو
کیا ہوتا ہے اگر ایک شخص دوسرے شخص کو کچھ
برا بھلا کہتا ہے تو لڑنے کے لیے اٹھنا پڑتا ہے۔

اس لئے فرمایا کہ اگر اٹھ کے آگے بڑھے اور اگر کوئی شخص کھڑا ہے اور لڑائی شروع ہو جائے تو وہ بیٹھ
جائے تو پھر وہ لڑائی نہیں کر سکے گا اس سے آگے
لڑائی رک جائے گی اور ویسے بھی پوزیشن تبدیل
کرنا غصے کی حالت میں انسان کے غصے کو کم
کرتا ہے۔

کچھ اور چیزیں بھی ہیں جو روزے کی حالت میں
انسان کے روزے کو نقصان دیتی ہیں اس میں حدیث
ہے اس بارے میں کہ جو روزہ دار اپنی شہوت پر
قابو نہ رکھتا ہو اس کے لیے بیوی کا بوسہ لینا
جائز نہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں
کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں
بوسہ لیتے بغلگیر ہوتے لیکن وہ
اپنی شہوت پر سب سے زیادہ قابو پانے والے تھے
اسے بخاری نے روایت کیا اس سے کیا پتہ چلتا ہے
کہ روزے
کی حالت میں اگرچہ اس کی رخصت ہے لیکن اگر
انسان کو یہ احساس ہو کہ ایسے کسی چیز سے اس
کے روزے کو خلل ہوسکتا ہے تو پھر وہ اس سے
اجتناب کریں کیونکہ یہاں
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں
کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ تم میں سے اپنی شہوت پر قابو پانے والے تھے۔

اگلی حدیث میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روزے کی حالت میں بیوی سے بغل گیر ہونے
کے بارے میں سوال کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
نے اجازت دے دی ایک اور آدمی آیا اس نے بھی وہی سوال آپ نے اس کو منع کر دیا حضرت ابوہریرہ ؓ
فرماتے ہیں جس کو آپ نے اجازت دی وہ بوڑھا تھا اور جسے آپ صلی علیہ وآلہ وسلم نے منع کیا وہ جوان
تھا اسے ابوداود نے روایت کیا ہے۔
یعنی بہت سی چیزیں مختلف لوگوں کے حالات کی مناسبت سے ہے آپ صلی علیہ وآلہ وسلم نے ہر ایک
کیلئے قانون نہیں بنایا اس میں وہ شخص جو اپنے شہوت پر قابو رکھ سکتا تھا اس کو اس کی رخصت
دے دی اور جو نہیں رکھ سکتا تھا اس کو اس کی
اجازت نہیں دی۔

اس دونوں احادیث سے پتہ یہی چلتا ہے کہ اصل چیز روزے کی حرمت کا لحاظ رکھنا ہے روزے کی حفاظت کرنا ہے اگر کوئی بھی چیز اس کو نقصان دینے والی ہو
تو اس میں کوئی انسان مفتی نہیں انسان کا اپنا دل مفتی ہے اور اپنے دل سے اور اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے کہ وہ کیا کرے کیونکہ اصل چیز اس مقصد کو پورا
کرنا ہے جو کہ روزے کا تقاضا ہے یعنی روزے کی
حفاظت یا ان چیزوں سے بچنا جو روزے کو نقصان
دینے والی ہو۔

Spread the love

اپنا تبصرہ بھیجیں