جزیرہ Astola

پاکستان کی %99 آبادی یقیناً پاکستان کے اس خوبصورت جزیرے سے ناواقف ہے.اس جزیرے کا نام جزیرہ Astola ہے پاکستان کا جو نقشہ آپ Map پر دیکھتے ہیں یا TV اخبارات پر وہاں پاکستان کے جزائر کو شامل ہی نہیں کیا جاتا اور پاکستان میں tourism ویسے بھی روبہ زوال ہے جس کی وجہ سے ایسے علاقے اسپاٹ لائٹ میں نہیں آ پاتے اگر آپ گوگل میپ کو بلوچستان اور سندھ کے ساحلی علاقوں پر زوم کر کے دیکھیں تو آپ کو اور بھی بہت سے جزائر ملیں گے۔

آج ہم آپ کو جزیرہ Astola کے بارے میں بتانے جا رہے ہیں یقیناً اس آرٹیکل کو دیکھنے کے بعد آپ میں سے بہت سے لوگ اس جزیرے کا رخ کریں گے.

جزیرہ Astola جسے جزیرہ ہفت تلار یا سات پہاڑوں کا جزیرہ بھی کہا جاتا ہے پاکستان کا ایک غیر با جزیرہ ہے صوبہ بلوچستان میں پسنی کے ساحل سے قریب یہ جزیرہ تقریبا 40 کلومیٹر بحیرہ عرب کے اندر
واقعہ پاکستان کا سب سے بڑا سمندری جزیرہ ہے۔

تقریبا 6.7 کلومیٹر طویل اور 2.3 کلومیٹر چھوڑے اس جزیرہ کا بلند ترین مقام سطح سمندر سے 75 میٹر ہے
یہ جزیرہ پاکستان کے رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے بلوچستان کے ضلع گوادر کی تحصیل پسنی کا حصہ ہے

اس جزیرہ کے غیر آباد ہونے اور یہاں سیاحوں کی آمد
و رفت نہ ہونے کی وجہ سے اس کے سفر کی طوالت ہے کراچی سے سات گھنٹے تک پسنی کے سفر کے بعد آپ
کو ایک موٹر بوٹ کی ضرورت پڑے گی اس نے مزید
تین گھنٹے کا سفر طے کرنے کے بعد آپ استولہ
پہنچیں گے۔

تاریخ میں اس جزیرہ کا ذکر اجمل مرکوز کے حوالے
سے ملتا ہے جسے 325 قبر مسیح میں سکندر اعظم
نے بحیرہ عرب اور خلیج فارس کے ساحلی علاقوں کی کھوج میں روانہ کیا تھا 1982 میں حکومت
پاکستان نے یہاں گیس سے چلنے والا ایک روشنی کا
مینار لائٹ ہاؤس بحری جہازوں کی رہنمائی کے لئے
تعمیر کیا تھا جسے بعد میں 1987 میں شمسی
توانائی کے نظام میں تبدیل کر دیا

ستمبر سے مئی کے مہینوں کے درمیان ماہی گیر یہاں کیکڑوں اور جھینگوں کے شکار کے لئے آتے ہیں۔

یہاں ایک چھوٹی سی مسجد بھی ہے جسے حضرت خضر علیہ السلام سے منسوب کیا جاتا ہے۔

علامہ عظی ہندو کے ایک پرانے مندر کے کھنڈرات کی
آثار بھی یہاں موجود ہیں جزیرے پر موجود پہاڑیوں کی hight نہایت عجیب و غریب اور منفرد ہے کچھ
پہاڑوں میں غار بھی تراشے ہوئے موجود ہیں جو کہ قدرتی ہیں بارشوں کے بعد جزیرے پر جابجا سبزہ
اگتا ہے بارش کے علاوہ یہاں میٹھے پانی کی فراہمی کا کوئی ذریعہ نہیں لہذا سبزا بھی کچھ عرصے بعد
ختم ہوجاتا ہے یہاں پر صرف کیکر کا درخت ایسا ہے
جو ہر قسم کے حالات میں زندہ رہ سکتا ہے اور سارا
سال دکھائی دیتا ہے۔

جزیرہ کا شفاف نیلا پانی غروب آفتاب کے وقت
نہایت خوبصورت دکھائیں دیتا ہے سفر کی طوالت کے باوجود کئی لوگ یہاں کی سیر کو آتے ہیں تاہم ان
کی تعداد بے حد کم ہے یہاں پر رات کو کیمپینگ
مچھلی کا شکار اور بون فائر جیسی سرگرمیاں
کرتے ہیں اور یہی یہاں تفریحی اور ایڈونچر
کا ذریعہ بھی ہیں۔

اگر جزیرہ Astola کو سہولتیں فراہم کی جائیں تو
یہاں سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے اور بلوچستان کی سیاست کو فروغ دیا جاسکتا ہے
کیونکہ اس وقت بھی سیاح اس دلکش علاقے کو
دیکھنے کی خاطر طویل اور مشکل سفر طے کر کے
یہاں پہنچتے ہیں لیکن ان کی تعداد کافی کم ہے۔

Spread the love

اپنا تبصرہ بھیجیں