امام کعبہ عبدالرحمن السدیس کے بارے میں اہم ترین معلومات

امام کعبہ عبدالرحمن السدیس کے بارے میں اہم ترین معلومات۔اہل ایمان ہو تو دل میں اللہ کو دیکھنے کی حسرت اور مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضری دینے کی آرزو ہر کسی کے دل میں پنہاں ہوتی ہے۔پھر مسجدالحرام کا پُر کیف منظر اور امام کعبہ کی آواز میں تلاوت قرآن اور ہی ہو تو ہر کوئی نماز کی طرف کھنچا چلا آئے گا۔

مسجد الحرام خانہ کعبہ کے اردگرد واقع ہے اس مسجد میں مقامِ ابراہیمی ، اب زم زم کا کنواں اور صفا و مروا بھی واقع ہیں اس مسجد کے امام تمام ادوار میں تبدیل ہوتے رہے۔

اس مسجد کے امام کو حرفِ عام میں امام
کعبہ بھی کہا جاتا ہے موجودہ دور میں امام عبدالرحمن السدیس، امام سعود الشریم، امام
عبد اللہ عہدُ الجہانی ، امام صالح الطالب ،
امام صالح الحمید، امام بندربلیلہ، اسامہ خیاط، امام خالد الغامدی، امام ماہرالمعیلی اور امام فیصل غزاوی اس مسجد کے امام ہیں۔

ان آئمہ کرام میں سے ایک جو سب سے زیادہ مشہور ہیں یعنی یہ امام عبدالرحمان السدیس
کی زندگی پر آج ہم روشنی ڈالنے کی جسارت کریں گے۔

امام عبد الرّحمن السدیس کا پورا نام عبدالرحمان بن عبدالعزیز السدیس ہے امام
السدیس کا تعلق حمزہ قبیلے سے ہے
اور آپ دس فروری 1960 کو پیدا ہوئے ریاض میں پَلے بڑھے اور صرف 12 سال کی عمر
میں قرآن حفظ کرلیا ابتدائی تعلیم مصنہ بن حارثہ ایلیمنٹری سکول سے حاصل کی اور
ریاض سائنٹیفیک کنسٹیٹیوشن سے گریجویشن
کی ڈگری کی۔

1983 میں ریاض یونیورسٹی سے شریعہ کی ڈگری حاصل کی پھر اپ نے امام محمد بن
سعود اسلامک یونیورسٹی کالج سے اسلامی فنڈامنٹلز میں ماسٹرز کی ڈگری بھی حاصل
کی تعلیم کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے ام القراء یونیورسٹی سے اسلامی شریعت میں
پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کرلیں۔

امام عبدالرحمن السدیس نے 1984 میں امامت کے فرائض سنبھالے اور تب وہ صرف 22 سال کے تھے اور امام صاحب نے جولائی 1984
میں مسجد الحرام میں اپنا پہلا خطبہ دیا 2005 میں دبئی انٹرنیشنل ہولی قرآن ایوارڈ آرگنائزنگ کمیٹی نے امام صاحب کی اسلامی پرسنلٹی آف دی ائیر خطاب سے امام صاحب
کو نوازا۔

2010 سے 2012 تک امام صاحب نے
پاکستان ،ملیشیا اور برطانیہ کا دورہ بھی کیا امام صاحب مسلمانوں پر ہونے والے ظلم کے
بارے میں اکثر بولتے ہیں اور کئی بار فلسطین ،صومالیہ ، عراق اور افغانستان کے مسلمانوں کے مسائل کے حل کے لیے آواز بھی اٹھا چکے ہیں امام عبدالرحمن السدیس دل کو چھو لینے والی تلاوت قرآن کے بارے میں بھی مشہور ہیں۔

2012 میں امام صاحب کو منسٹر بنا دیا گیا اور اس کے علاوہ امام صاحب ریاض اور ام القریٰ یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر بھی
رہ چکے ہیں۔

2003 امام صاحب نے کہا کہ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ نوجوانوں کو اسلامی
قوانین روشناس کروایا جائے تا کہ پتہ چلے کہ اسلام کی تعلیمات کیا ہیں اس طرح نوجوانوں
کا یہ بھی پتہ چل سکے گا کہ خود کو قتل کرنا بھی کتنا بڑا گناہ ہے اور یہ پتہ چل سکے گا کہ مسلمان ممالک میں رہنے والے غیر مسلم لوگوں کو قتل کرنے کی بھی اسلام میں کتنی ممانعت ہے۔

مزید یہ بھی کہا کہ مسلمان نوجوانوں کو لادینیت سے دور رہنا چاہیے اور کسی صورت
ميں بھی اصل جہاد اور آجکل کی موجودہ حالات میں ہونے والی دہشتگردی کو آپس میں ملانا نہیں چاہیے 2007 میں ملکِ کے پاکستان ہونے والے لال مسجد کے واقعے کی بھی امام صاحب نے کھڑے الفاظ پر سرزنش کی تھی۔

امام صاحب نے اس معاملے کو پرامن طریقے
سے حل کرنے کا کہا تھا اور پاکستان حکومت اور لال مسجد کی انتظامیہ کو اس معاملے کو پرامن طریقے سے مذاکرات کے ذریعے کسی
نتیجے پر پہنچانے کی درخواست کی تھی۔

امام صاحب تو اپنے ان خطبوں کے بارے میں بھی جانا جاتا ہے جن میں وہ تمام مسلمانوں
کو حالات جنگ میں اور مجبور و بے کس مسلمانوں کی تائید و نصرت کی نصیحت کرتے ہیں۔

2006 میں ہونے والے خشک سالی کے بعد
امام عبدالرحمن السدیس خشک سالی کا ذمہ دار سعودی معاشرے میں بڑھتے ہوئے گناہوں کو
ٹہرا دیا اس کے علاوہ امام صاحب 2004 میں برطانیہ میں بھی وعظ و نصیحت کے لئے گئے جن کو شہزادہ چارلس اور برطانیہ کے چیف
نے خیرمقدم بھی کیا۔

یہودیوں کے بارے میں امام عبدالرحمن السدیس ہمیشہ اپنے سخت آراء رکھتے ہیں ان کا کہنا
ہوتا ہے کہ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ انبیاء کے قاتل ہیں اور زمین کی غلاظت ہیں۔

جس وجہ سے امام عبدالرحمان السدیس پر امریکہ میں کانفرنس کرنے پر پابندی ہے اور
کینڈا میں بھی امام صاحب پر پابندی ہے۔

اس تقریر کے بعد جن میں یہودیوں کے لیے یہ الفاظ استعمال کی ہے امریکی نشریاتی ادارے
این بی سی نے سعودی عرب کے مشیر خارجہ عادل الجبیر سے امام صاحب کے اس بیان کے بارے میں پوچھا جس پرمشیرخارجہ صاحب نے کہا کہ میں اس بات کا اعتراف کرتا ہوں کہ امام صاحب نے غلط کہا ہے جس پر انہیں
ڈانٹا بھی گیا ہے اور اگر کوئی طریقہ ہوتا تو
وہ اپنے الفاظ واپس لے لیتے۔

Spread the love

اپنا تبصرہ بھیجیں