آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ہماری زمین اپنے اندر کیا رکتھی ہے؟

آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ہماری زمین جس پر ہم رہتے ہیں اپنے رہنے کے لیے گھر بناتے ہیں اپنے اندر کیا رکتھی ہے زمین جس پر ہم رہتے ہیں اپنے رہنے کے لیے گھر بناتے ہیں اپنے اندر کیا رکتھی ہے؟اگر زمین کو کھودا جائے تو ہم کتنی گہرائی میں جا سکتے ہیں اور اس گہرائی میں ہمیں کیا ملے گا.

آیئے ان سوالات کے جواب جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ زمین کی اب تک کی معلوم گہرائی روس کے جزیرہ نما پینسولا گولا میں موجود
ہے یہ پینسوگولا جو کہ روس میں موجود ہے
یہ پانچ سے سات میل گہرا گھڑا ہے۔یہ گھڑا سمندر کی اب تک کی معلومات گہرائی سے بھی بہت زیادہ گہرا ہے .

زمین کی گہرائی کو جانچنے کے لیے اس گھڑے کے کھدائی 1970ء میں سوویت یونین کے
دور میں شروع کی گئی اس کھدائی سے اب
تک تین اہم دریافتیں ہوچکی ہے وہ دریافت
کیا ہے کہ پوری تہہ غیب ہے زمین کے اندر موجود پتریلی تہہ میں بسالت نامی تہہ
موجود ہی نہیں.

سائنس دانوں کا خیال تھا کہ زمین کی تہہ
میں بلند درجہ حرارت کے باعث سخت مادے مائع حلت میں موجود ہیں انہی میں سے ایک تہہ بسالٹ کی ہے تاہم اس کدائی میں ماہرین
کو بسا لٹ نہیں ملی یہ تو نہیں کہا جاسکتا
کہ اس تہہ کا کوئی وجود ہی نہیں ممکن ہے
یہ تہہ مزید گہرائی میں واقع ہو جہاں اب تک انسان نہ پہنچ سکا ہو گہرائی میں پانی عموما زمین کے اندر اوپر ہی ہوتا ہے اور تھوڑی
سی کھدائی کے بعد نکل آتا ہے جس کا ثبوت جگہ جگہ کھودے ہوئے کنویں اور دہی علاقے ميں نسب ہینڈ پمپ جو زمین سے پانی نکال
کر زمین کے اوپر آباد افراد کی ضروریات
پوریکرتے ہیں .

تاہم سائنسدانوں نے اس گہرائی سے بہت دورتقریباً تین چار میل نیچے پانی دریافت
کی ہے اس قدر گہرائی میں پانی کی موجودگی
کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی سب
سے حیرت انگیز دریافت کھدائی کے اس عمل
کے دوران زمین کے اندر اتا گہرائی میں خوردبینی فاسلز کے شکل میں زندگی کی موجودگی تھی یہ فاسلز جن پتّوں میں دریافت کیے گئے ان پتّوں کی عمر تقریبا دو ارب سال تھا ان فاسلز میں خودبینی جانداروں کی
35 انوار دریافت کیے گئے کھدائی کیوں روکھی گئ انسانی عقل کو دنگ کر دینے والے
انکشافات پر مبنی اس کھدائی کو انیس سو چورانوے میں کئ وجوہات کے باعث روک
دیا گیا.

پہلی وجہ تو زمین کا ناقابل برداست درجہ حرارت تھا جو 180 سینٹی گریڈ پر تھا اس
کے علاوہ جیسے جیسے کھدائی ہوتی گئ ویسے ویسے زمین کے اندر پتّوں کی کثافت کی مضبوطی میں اضافہ ہوتا گیا کھدائی کرنے
والوں کا کہنا ہے کہ مزید کھدائی میں ڈریلنگ کرنا کسی پلاسٹک سے پتھر پر ڈریلننگ کرنے
کے مترادف ہے.

اک اور وجہ عوام میں عجیب و غریب خیالات کا پھیل جانا بھی تھا کھدائی کے دوران جب پانی کی موجودگی سامنے آئی تو لوگوں نے
اسے حضرت نوح علیہ السلام کے دور میں آنے والے عظیم سیلاب سے جھوڑنا شروع کر دیا جس کے بعد زمین پر دوبارہ زندگی کا آغاز
ہوا تھ۔

لوگوں کا ماننا تھا کہ اس عظیم سیلاب کے
بعد جب پانی اترا تو وہ زیرزمین گڑھوں اور
نالوں میں پھیل گیا اور آپ اس قدر گہرائیوں پانی کی موجودگی ثابت کرتی ہے کہ یہ
طوفان اور عظیم سیلاب کوئی دیومالائی
داستان نہیں بلکہ حقیقت ہے کھدائی کے اس عمل کے دوران ماہرین کے ذہنوں میں بھی پہلی اک مفروضہ بیٹھ گیا جو کافی انوکھا اور
کسیحد تک خوف زدہ کر دینے والا تھا.

ماہرین کے مطابق جہاں تک وہ کھدائی کر چکے تھے اس سے آگے مزید کھدائی کرنا جہنم کی طرف جانے کا مترادف تھا جو ان کے خیال
میں زمین کی گہرائی میں موجود تھی ان
ماہرین نے یہ بھی دعوی کیا کہ جب وہ
کھدائی کرتے ہوئے زمین کی گہرائی کی طرف بڑھ رہے تھے تو انہیں بعض اوقات بعض
نامعلوم سی چیخیں
بھی سنائی دیتی تھی ان کے مطابق یہ چیخیں تکلیف میں مبتلا ان روحوں کی تھی جو
جہنم میں جل رہی تھی.

آخر میں آپکو سب سے زیادہ خوفناک بات سے آگاہ کرتے چلے کہ یہ کھدائی جہاں پر ختم
ہوئی وہ مقام زمین کے مرکز تک کا صرف 0.002 حصہ ہے یعنی زمین کی لامتناہی
گہرائی ابھی مزید کئی عظیم دریافتوں کی منتضر ہے کیا معلوم انسان اس قابل بھی ہے
یا نہیں کہ اسے دریافت کر سکے۔

Spread the love

اپنا تبصرہ بھیجیں