آئن سٹائن کا دماغ کیوں چوری ہوا اور بعد میں ان کے ساتھ کیا گیا

البرٹ آئنسٹائن جس نے دنیا کو مشہور زمانہ دی تیوری آف ریلیٹوٹی دی اور پھر فوٹو الیکٹرک ایفکٹ کی دریافت بھی کی جس کی وجہ سے آج ہم میں سے کئی لوگوں کے گھروں میں سولر پینلز موجود ہیں۔یقیناً اس کا دماغ ایک خاص اور بہترین دماغ تھا اور شاید یہ دماغ اتنا خاص تھا کہ آئن سٹائن جب 18 اپریل 1955 کو پرنسٹن ہاسپٹل میں فوت ہوا موقع پر موجود ڈاکٹر نے آئن سٹائن کا دماغ چوری کرلیا۔

آئن سٹائن کو اپنی قابلیت کا اندازہ تھا اور اسے شاید اس بات کا اندازہ بھی تھا کہ اسکا دماغ کتنا قیمتی ہے اور قریب ممکن ہے کہ اس کی وفات کے بعد اس کے دماغ کو کسی لیبارٹری میں آزمائش در آزمائش کی صوبتیں برداشت کرنی پڑیں گی۔

چنانچہ آئن سٹائن نے اپنی زندگی میں ہی اس بات کا حکم دے دیا تھا کہ میرے جسم کے کسی حصے کو الگ نہ کیا جائے اور میرے جسم کو جلا کر راکھ خفیہ طور پر کہیں بکھیر دی جائے تاکہ بدھ پرستوں کے حوصلہ شکنی ہو اور یوں کہیں وہ اسے پوجھنے نہ لگ جائیں.

لیکن آئن سٹائن کی تنبیہ کے باوجود ایسا نہ ہوا اور ڈاکٹر ہاروے تھامس نے اس کی کھوپڑی چیر کر آئنسٹائن کے دماغ کو چوری کرکے راہ فرار اختیار کی کچھ ہی دنوں میں اس بات کا اعتراف عام لوگوں کو ہوگیا کہ آئن سٹائن کے مردہ جسم سے دماغ چوری ہو چکا ہے چنانچہ ڈاکٹر ہاروے نے آئنسٹائن کے بیٹے کو راضی کیا کہ وہ اپنے باپ کے دماغ پر تحقیق کرنے کی اجازت دیں۔

اس مقصد میں ڈاکٹر ہاروے کامیاب بھی ہو گیا اور آئنسٹائن کے بیٹے نے ڈاکٹر ہاروے کو اپنے باپ کے دماغ کو محض تحقیق کے لیے ڈاکٹر ہاروے کو استعمال کرنے کی اجازت دے دی ڈاکٹر ہاروے کو اس کام کی وجہ سے پرنسٹن ہسپتال سے جلدی ہی چلتا کر دیا گیا اور پھر ڈاکٹر نے آئن سٹائن کے دماغ کے ساتھ امریکہ کے شہر فلاڈیلفیا میں پہنچ گیا.

جہاں ڈاکٹر ہاروے نے آئن سٹائن کے دماغ کے 240 چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر دیئےاور پھر ان ٹکڑوں کو دو الگ مرتبانوں میں ڈال کر گھر کے تہہ خانے میں چھپا دیا.

لیکن ڈاکٹر ہاروے کی شریک حیات کی اس دھمکی پر وہ آئن سٹائن کے دماغ ٹھکانے لگا دی گی ڈاکٹر ہاروے نے آئن سٹائن کے دماغ کو وہاں سے بھی ایک اور جگہ منتقل کر دیا اور کسی نامعلوم جگہ پر آئن سٹائن کے دماغ پر اپنے فارغ اوقات میں تحقیق کرنا شروع کر دی لیکن کچھ عرصے بعد ڈاکٹر ہاروے میڈیکل لائسنس کینسل ہو گیا

جس کی وجہ سے ڈاکٹر ہاروے قانونی طور پر آئن سٹائن کے دماغ پر تحقیق کرنے کے اہل نہ رہا چنانچہ اس نے اپنے ساتھ دیگر کچھ ڈاکٹرز کو ملایا اور تحقیق شروع کی.

یہ وہ مقام ہے جہاں پر یہ کہانی زیادہ دلچسپ ہو جاتی ہے آئن سٹائن کی دماغ پر تحقیق کی گئی اور پہلی تحقیق 1985 میں منظر عام پر آئی جب کہ اس کے علاوہ آئین سٹائن کے دماغ پر مزید پانچ تحقیقات ہو چکی ہیں۔

ان تحقیقات میں سب سے نئی تحقیق 2014 میں کی گئی تمام سائنس دانوں نے اس بات کا اندازہ لگایا کہ آئن سٹائن کے دماغ میں موجود دماغی خلیوں میں یعنی کے نیورانز کے تعداد زیادہ تھی جس کی وجہ سے آئنسٹائن عام آدمی سے قدرے زیادہ عقلمند تھا لیکن جدید دور کے سائنسدان ان تحقیقات کو غلط کہتے ہیں.

وہ ان تحقیقات کو رد کرنے کا جواز یہ پیش کرتے ہیں کہ آئن سٹائن کے دماغ پر تحقیق کرنے والے سائنسدانوں نے اپنی تحقیق کو درست ثابت کرنے کیلئے اور شہرت کی خاطر اس تحقیق میں فریضہ علم دیانتداری سے کام نہیں لیا اور آئن سٹائن کے دماغ کا صرف ایک شخص کے دماغ سے ہی موازنہ کیا گیا۔

جو کہ کسی بھی صورت نتیجے پر پہنچنے کا باعث نہیں ہوسکتا کیونکہ ایسی سائنسی تحقیق میں جہاں پر موازنہ یعنی کہ کمپیرزن کر کے نتائج اخذ کیے جاتے ہیں ان کے لیے کئ چیزوں سے موازنہ کیا جاتا ہے تب جاکر نتائج کے صحت مند ہونے کا دعوی کیا جاسکتا ہے.

آئن سٹائن کے دماغ کا صرف ایک ہی دماغ کے ساتھ موازنہ کیا گیا ہے اور سائنسدانوں کے مطابق نتائج اخذ کرنے میں عجلت سے کام لیا گیا اور مزید یہ کہ موجودہ دور کے محققین اس بات پر متفق ہیں کہ آئن سٹائن کا دماغ عام انسان جیسا ہی تھا اور جب قرآن میں اللہ نے سورہ تین کی آیت نمبر 4 میں کہہ دیا کہ بے شک ہم نے انسان کو اچھی صورت پر بنایا۔

اس کا مطلب تو بالکل صریح اور واضح ہے اور وہ یہ کہ تمام انسانوں کو اللہ نے بہترین بنایا ہے اب انسان پر ہے کہ وہ اپنے دماغ کو کس طرح استعمال کرکے اس سے کون سا کام لیتا ہے.

چنانچہ ہم آپ کو بتائے دیتے ہیں کہ آپ آج کسی بھی حالت میں آج ہی اپنے حالات کو قابو میں کرنے کے لیے دن رات کوشش شروع کر دیں اور اس بات کی پرواہ بالکل نہ کریں کہ آپ میں وہ عقل نہیں جو آئنسٹائن میں موجود تھی یقین جانئے آپ سب بے انتہا عقل مند ہیں ضرورت صرف محنتِ شاقہ سے اپنے خوابوں کی تکمیل کیلئے جی جان سے کوشش کرنے کی ہے۔

Spread the love

اپنا تبصرہ بھیجیں